مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کولمبیا کی حکومت کے تمام بے بنیاد الزامات کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے، ایرانی مسلح افواج پر لگائے گئے الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔
کولمبیا کی حکومت کی جانب سے ایران پر بے بنیاد الزام تراشی اور ساتھ ہی نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط سفارتی تعلقات کے خاتمے کا اعلان، باہمی احترام کے اصول کے منافی اور دونوں ممالک کے مفادات کے خلاف ہے۔
واضح ہے کہ کولمبیا کی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے جواز کے لیے پیش کیے گئے الزامات میں سے کوئی بھی معقول یا منطقی نہیں ہے اور یہ فیصلہ صرف صہیونی حکومت اور امریکہ کے دباؤ اور اثر و رسوخ کے تحت کیا گیا ہے۔
کولمبیا کی حکومت، جو ناقابلِ تردید دستاویزات اور شواہد کے مطابق منشیات کی پیداوار اور تقسیم کرنے والے کارٹیلوں کے شدید اثر و رسوخ میں ہے اور عملاً براعظم امریکہ اور اس سے باہر منشیات پر مبنی دہشت گردی (نارکو ٹیررازم) کے ایک خوفناک نیٹ ورک کا حصہ سمجھی جاتی ہے، کسی بھی صورت میں اس مقام پر نہیں کہ دہشت گردی اور منشیات کے بارے میں دوسروں کو نصیحت کرے۔ اس نوعیت کی منافقانہ الزام تراشی کولمبیا کی حکومت کی اس بین الاقوامی ذمہ داری کو ختم نہیں کر سکتی جو دنیا کے مختلف حصوں، بشمول ایران، تک منشیات کی بڑی کھیپوں کی اسمگلنگ میں شمولیت کے باعث اس پر عائد ہوتی ہے۔
ستمبر کے اواخر میں تہران میں 55 کلو گرام خالص کولمبیائی کوکین کی ضبطی، جو کولمبیا کے بااثر افراد سے وابستہ ایک نیٹ ورک کے ذریعے براہِ راست ایران اسمگل کی گئی تھی، کولمبیا کی حکومت سے منسوب بین الاقوامی منظم جرائم کی حالیہ دریافت شدہ مثالوں میں سے ایک ہے۔ توقع کی جاتی تھی کہ کولمبیا کے متعلقہ ادارے اس معاملے پر جلد بازی میں ردِ عمل ظاہر کرنے کے بجائے، اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت اس کھیپ اور اسی نوعیت کی دیگر کھیپوں کی اسمگلنگ میں ملوث مرکزی عناصر کی نشاندہی کے لیے ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کرتے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کولمبیا کی حکومت کے اس غیر منصفانہ اور مخاصمانہ طرزِ عمل کے مقابلے میں ضروری اقدامات کرے گی۔
آپ کا تبصرہ